Recent Posts

Pages: [1] 2 3
1
" خلافت عثمانیہ  اور ‏سعودی عرب کی تاریخ"
‏عرب شریف میں 1922 تک ترکی کی حکومت تهی.جسے خلافت_عثمانیہ کے نام سے جانا جاتا هے.1922سے پہلے سعودی عرب کا نام سعودی عرب نہیں بلکہ حجازِ مقدس تھا۔
‏خلافت عثمانیہ دنیا کے تین براعظموں پر
623 سال (1299-1922) تک قائم رہی۔
جب بهی دنیا میں مسلمانوں پر ظلم و ستم هوتا تها تو ترکی حکومت اس کا منہ توڑ جواب دیتی.امریکہ ، برطانیہ ،یورپین ، نصرانی اور یہودیوں کو اگر سب سے زیادہ خوف تها تو وہ خلافت_عثمانیہ حکومت کا تها.
امریکہ ، یورپ جیسوں کو معلوم تها کہ‏ جب تک خلافت_عثمانیہ هے' هم مسلمانوں کا کچھ بهی نہیں بگاڑ سکتے هیں.
‏امریکہ و یورپ نے خلافت_عثمانیہ کو ختم کرنے کی سازش شروع کی.
‏19ویں صدی میں سلطنتِ عثمانیہ اور روس کے درمیان بہت سی جنگیں بھی ہوئیں چونکہ مکہ اور مدینہ مسلمانوں کے‏نزدیِک قابلِ احترام ہیں اسی لیے سب سے پہلا فتنہ وہیں سے شروع کروایا۔
‏ا‏مریکہ یورپ نے سب سے پہلے اک شخص کو کهڑا کیا جو کرسچیئن تها ' ایسی عربی زبان بولتا تها کہ کسی کو اس پر شک تک نہیں ہوا اس نے عرب کے لوگوں کو‏خلافت_عثمانیہ کے خلاف یہ کہہ کر گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی کہ تم عربی هو اور یہ ترکی عجمی(غیر عربی) هیں هم عجمی کی حکومت کو کیسے برداشت کر رهے هیں
‏پر لوگوں نےاسکی ایک نہ مانی.
‏یہ شخص "لارنس آف عریبیہ" کے نام سے‏مشہور هواجو آپ کو اس پوسٹ کی تصویر میں بھی نظر آ رہا ہے۔(آپ لارنس آف عریبین لکھ کر گوگل پر سرچ کرسکتے ہیں)
‏پهر امریکہ نے ایک شخص کو کهڑا کیا جس کا نام عبدالوهاب نجدی تھا۔
‏عبدالوهاب نجدی کی ملاقات عرب کے ایک سوداگر سے هوئی‏ جس کا نام ابن سعود تها اس نے ابن سعود کو عرب کا حکمران بنانے کا لالچ دیا۔
‏پهر ابن سعود نے مکہ ، مدینہ اور طائف میں ترکی کے خلاف جنگ شروع کر دی
‏مکہ ، مدینہ شریف اور طائف کے لاکهوں مسلمان ابن سعود کی ڈاکو فوج کے ہاتهوں شہید هوئے جب ترکی نے دیکها کہ ابن‏ سعود همیں عرب سے نکالنے اور خود عرب پر حکومت کرنے کے لیے مکہ ، مدینہ اور طائف کے بے قصور مسلمانوں کو شہید کر رها هے تب ترکی نے عالمی طور پر یہ اعلان کر دیا کہ
‏"هم اس پاک سرزمین پر قتل و غارت پسند نہیں کرتے"
‏اس وجہ سے خلافت_عثمانیہ کو ختم کر دیا گیا۔‏جس کی وجہ سے 40 نئے ممالک وجود میں آئے۔ پهر عرب کے مسلمانوں کا زوال شروع هوا حجاز_مقدس کا نام 1400 سال کی تاریخ میں پہلی بار بدلا گیاابن سعود نے حجاز_مقدس کا نام اپنے نام پر سعودیہ رکهہ دیا..
‏اور اس فتنے کا ذکر احادیث میں بھی ملتا‏ہے اور اسی وجہ سے سرکارِ دو عالمﷺ نے سعودی عرب کے شہر نجد کے بارے میں دعا نہیں فرمائی تھی ۔ اسی نجد میں ابن عبدالوهاب نجدی پیدا ہوا جس سے انگریزوں نے ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈلوائی اور یہی شہر مسیلمہ کذاب کا جائے پیدائش بھی ہے۔‏لیکن دنیا بھر کے مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئیے انگریزوں نے اس ’نجد‘ شہر کا نام بھی تبدیل کر کے ’ریاض‘ رکھ دیا جو آج کل سعودیہ کا دار الحکومت ہے۔
‏جنت البقیع اور جنت المعلی میں صحابہ رضوان الله اجمعین اور اهل_بیت علیهم‏السلام کے مزارات پر بلڈوزر چلایا گیا اور تمام قبروں کی بے حُرمتی کر کے ان کو ملیامیٹ کر دیا
‏(بدقسمتی سے آج بھی کئی بھولے بھالے مسلمان انہی قبروں کو سنت کے مطابق سمجھتے ہیں حالانکہ 1922سے پہلے وہ ایسی نہ تھیں)‏حرم شریف کے جن دروازوں کے نام صحابہ اور اهل_بیت کے نام پر تهےان کا نام آل_سعود کے نام پر رکها گیا (آپ یہ ساری معلومات انٹرنیٹ کے علاوہ تمام تاریخ کی کتابوں میں بھی پڑھ سکتے ہیں)
‏انگریزوں نے اپنی اسی سازش کی کامیابی پر 1962 میں ہالی وُڈ نے ’ The Lawrence of Arabia‘‘ کے نام سے فلم بھی بنائی جو بہت زیادہ بار دیکھی جا چکی ہے۔
‏یہود و نصاری کو عرب میں آنے کی اجازت مل گئی جس دن ابن سعود عرب کا بادشاہ بنا اس دن اک جشن هوا اس جشن میں امریکہ ، برطانیہ اور دوسرے ملکوں کے پرائم منسٹر ابن سعود کو مبارک باد دینے پہنچ گئے‏جس عرب کے نام سے یہود و نصاری کانپتے تهے وه سعودیہ ' امریکہ کے اشارے پر ناچنے لگااور آج بهی رندوں کے ساتهہ ناچ رها هے
‏یہود و نصاری کی اس ناپاک سازش کا ذکر کرتے هوئے
‏"علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنے کلام میں لکها هے۔       
"‏وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
‏روح محمدﷺ اسکے دل سے نکال دو
‏فکر_عرب کو دے کر فرنگی تخیلات
‏اسلام کو حجاز اور یمن سے نکال دو
‏اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایسے فتنوں سے محفوظ فرما کر پھر سے خلافت کی دولت عطا فرمائے اور ہمیں ماضی کے تلخ حقائق کو سمجھنے کی عقل عطا فرمائے۔ آمین🤲🤲
2
الله سبحانہ تعالی کے اذن سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے معجزے

ایک بار ایک شریر یہودی نےمحض شرارت میں ، حضرت محمد صلی الله عليه وآلہ وسلم۔ کی خدمت میں کھجور کی ایک گٹھلی پیش کی اوریہ شرط رکھتے ہوۓ کہا کہ اگرآپ آج اس گٹھلی کو مٹی اور پانی کے نیچے دبا دیں اور کل یہ ایسا تناور کھجور کا درخت بن کر زمین پر لہلہانے لگے اجس میں پھل یعنی کھجوریں بھی پیدا ہوجائیں تو میں آپکی تعلیمات پر ایمان لیے آؤں گا - گویا مسلمان ہو جاؤں گا -
رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم نے اسکی یہ شرط تسلیم کرلی اور ایک جگہ جاکر آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس گٹھلی کو مٹی کے نیچے دبا دیا اور اس پر پانی ڈالا اور الله سبحانہ و تعالی سے دعا بھی کی اور وہاں سے واپس تشریف لیے آئے-
اس یہودی کو دنیاوی اصولوں کی کسوٹی پر یقین کامل تھا کہ ایک دن میں کسی طرح بھی کھجور کا درخت تیار نہیں ہو سکتا تھا لیکن رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کی ذات اقدس کی روحانیت اور اپکا اعتماد اسکے دل میں کھٹک اور خدشہ ضرور پیدا کر رہا تھا کہ کہیں کل ایسا ہو ہی نہ جایے کہ کھجور کا درخت اگ جایے اور اسے ایمان لانا پڑ جایے - اسنے اپنے اس وسوسے کو دور کرنے کے لیے پھر دنیاوی اصولوں کی مدد لی اور شام کو اس مقام پر جا کر جہاں کھجور کی گٹھلی آقا دو جہاں صلی الله علیہ وسلم نے بوئی تھی اسکو وہاں سے نکل لیا اور خوش خوش واپس آ گیا کہ اب کھجور کا نکلنا تو درکنار ، کھجور کے درخت کا نکلنا ہی محال ہے - لَیکِن وہ نہیں جانتا تھا کہ جب معاملہ الله سبحانہ و تعالی اور اسکے رسول صلی الله علیہ وسلم کے درمیان ہو تو دنیاوی اسباب بے معنی ہو جاتے ہیں -
اگلے دن آقا دو جہاں صلی الله علیہ وسلم اور وہ یہودی مقام مقررہ پر پہنچے تو وہ یہودی یہ دیکھ کرحیران رہ گیا کہ وہاں ایک تناور درخت کھجور کے گجھہوں سے لدا کھڑا ہے - اس یہودی نے جب اسکی کھجور کو کھایا تو اسمیں گٹھلی نہیں تھی تو اسکے منہ سے بے اختیار نکلا:-
'' اسکی گٹھلی کہاں ہے '' -
مرقوم ہے کہ اس موقع پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ '' گٹھلی تو تم نے کل شام ہی نکال لی تھی اسلئے گٹھلی تو کھجور میں نہیں ہے البتہ تمہاری خواہش کے مطابق کھجور کا درخت اور کھجور موجود ہے - کہا جاتا ہے کہ وہ یہودی الله سبحانہ تعالی کے اذن سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اس معجزے کو دیکھ کر مسلمان ہوگیا -
اس واقعہ کے بعد سے آج تک بغیر گٹھلی والی معجزاتی کھجور مدینہ منورہ میں خوب اگتی ہے - دوکانوں پر فروخت بھی ہوتی ہے - اس کھجور کا اصل نام '' سکھل '' ہے - اسے
'' سخل'' بھی کہتے ہیں اور اگر آپکو نام یاد نہ بھی رہے تو آپ اسے '' بے دانہ کھجور '' کہ کر بھی طلب کر سکتے ہیں -
اب بہت زیادہ علم رکھنے والے بلخوصوص '' نباتیات '' ( BOTANY) کے ماہرین یہ بھی پوچھیں گے کہ جب '' سکھل کھجور '' میں گٹھلی نہیں تو اسکی مزید کاشت چودہ سو سالوں سے کیسے ہو رہی ہے تو بتانے والوں نے بتایا ہے کہ اس کے سوکھے پتے کھجور کے باغوں میں مٹی میں مدغم ہوکر نئے پودوں کی بنیاد بن جاتے ہیں
3
شاعری / کچھ کام تھے اپنی مرضی کے
« Last post by Administrator on July 21, 2020, 11:45:18 AM »
کچھ کام تھے اپنی مرضی کے
کچھ کام فقط مجبوری تھے
پھر وقت بہت ہی تھوڑا تھا
اور سارے کام ضروری تھے
حارث خلیق
4
پنجابی شاعری / حُسن بلاَں توں ڈر لگدا اے
« Last post by Administrator on July 20, 2020, 03:26:11 PM »
حُسن بلاَں توں ڈر لگدا اے
عشق دے ناں توں ڈر لگدا اے
جتھے ڈھول وداع ہویا سی
اج اُس تھاں توں ڈر لگدا اے
آپاں سدھے راہے تُرنا
وَل ولَاں توں ڈر لگدا اے
ٹُکر کھوہندے بالاں کولوں
بندے، کاں توں ڈر لگدا اے
نِبڑ لاں گا باہروں تے میں
گھر دے جیاں توں ڈر لگدا اے
کدھرے میتھوں رُس نہ جاون
رب تے ماں توں ڈر لگدا اے
ساہ اُدھارے مہلت تھوڑی
چار دناں توں ڈر لگدا اے
وانگ دھریکاں ودھد یاں جاون
قمر دھیاں توں ڈر لگدا اے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرید قمرچشتی
5
*اپنا دل دیکھیں کہ کونسا ھے۔۔۔؟*

دل کی 13 اقسام
ﺩﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﻩ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﺟﻦ ﻛﺎ ﻗﺮﺁﻥ
 ﻣﺠﻴﺪ ﻣﻴﮟ ﺫﻛﺮ ﮨﮯ
*#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﺴﻠﻴﻢ😘 ﯾﮧ ﻭﻩ ﺧﺎﻟﺺ ﺩﻝ
 ﮨﮯ ﺟﻮ ﻛﻔﺮ، ﻧﻔﺎﻕ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ
 ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺸﻌﺮﺍﺀ، ﺍﻵﻳﺔ89:
*#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻤﻨﻴﺐ😘
 ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
 ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﻛﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻃﺎﻋﺖ
 ﻣﻴﮟ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ..
ﺳﻮﺭﺓ ﻕ، ﺍﻵﻳﺔ33:
*#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻤﺨﺒﺖ😘
 ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
 ﺟﻬﻜﺎ ﮨﻮﺍ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﻜﻮﻥ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﺗﺎ
 ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺞ، ﺍﻵﻳﺔ54:
*#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻮﺟﻞ😘
 ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
 ﻧﯿﮑﯽ ﻛﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﮈﺭﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﺘﮧ
 ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﻳﺎ ﻧﮩﻴﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ
 ﺭﺏ ﻛﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮈﺭﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﻮﻥ، ﺍﻵﻳﺔ60:
*#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﺘﻘﯽ😘
 ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
 ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻛﮯ ﺷﻌﺎﺋﺮ ﮐﯽ ﺗﻌﻈﻴﻢ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺞ، ﺍﻵﻳﺔ32:
*#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻤﻬﺪﯼ😘
 ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
 ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻛﮯ ﻓﻴﺼﻠﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ
 ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﻛﮯ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﻛﻮ ﺑﻬﯽ
 ﺑﺨﻮﺷﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﻛﺮ ﻟﻴﺘﺎ ﮨﮯ...
*#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻤﻄﻤﺌﻦ😘
 ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ
 ﺟﺲ ﻛﻮ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﯽ ﺗﻮﺣﻴﺪ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺫﻛﺮ
 ﺳﮯ ﮨﯽ ﺳﻜﻮﻥ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺮﻋﺪ، ﺍﻵﻳﺔ28:
*#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﺤﺊ😘
 ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻟﻠّٰﮧ
 ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﻛﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺳﻦ ﻛﺮ ﺍﻥ
 ﺳﮯ ﻋﺒﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﺼﺤﻴﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﻕ، ﺍﻵﻳﺔ37:
*#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻤﺮﯾﺾ😘
 ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
 ﺷﮏ، ﻧﻔﺎﻕ، ﺑﺪﺍﺧﻼﻗﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺱ ﻭ ﻻﻟﭻ
 ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻻﺣﺰﺍﺏ، ﺍﻵﻳﺔ32:
*#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻷﻋﻤﻰ😘
 ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
 ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺳﮯ
 ﻋﺎﺭﯼ ﮨﮯ، ﺣﺘٰﯽ ﮐﮧ ﺍﻧﺪﮬﺎ ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺞ، ﺍﻵﻳﺔ46:
*#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻼﻫﻰ😘
 ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
 ﻗﺮﺁﻥ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ، ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺭﻧﮕﯿﻨﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ
 ﻣﮕﻦ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻻﻧﺒﯿﺎﺀ، ﺍﻵﻳﺔ3:
*#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻵﺛﻢ😘
 ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺣﻖ
 ﭘﺮ ﭘﺮﺩﮦ ﮈﺍﻝ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﭼﮭﭙﺎﺗﺎ
 ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ، ﺍﻵﻳﺔ283:
*#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻤﺘﻜﺒﺮ😘
 ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ
 ﻣﺘﮑﺒﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﮐﺶ ﮨﮯ، ﺟﺲ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ
 ﺩﯾﻨﺪﺍﺭﯼ ﭘﺮﮔﮭﻤﻨﮉ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﯾﮧ
 ﺩﻝ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺟﺎﺭﺣﯿﺖ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﮨﻮﮐﺮ ﺭﮦ
 ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ...
ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ،
6
شاعری / (فاخرہ بتول)
« Last post by Administrator on July 19, 2020, 12:48:37 PM »
خود کو زیر ِ عتاب کون کرے
آپ کا انتخاب کون کرے ؟
فرقتوں کے زوال موسم میں
قُربتوں کا حساب کون کرے؟
کچھ ضروری سے کام اور بھی ہیں
عشق خانہ خراب کون کرے
بات کرنی کسے نہیں آتی ؟
اب اُسے لاجواب کون کرے ؟
لٹ ہو ماتھے پہ کس لیےصاحب ؟
چاند زیر ِ نقاب کون کرے
کون شکوہ کرے وہاں جا کر
رہنے دیجے، جناب کون کرے
جو مقٌدر میں ھے ملے گا بتول
یونہی نیٌت خراب کون کرے
(فاخرہ بتول)
7
بریانی دے  ذائقے وچ  کسان دا خون پسینہ شامل ھوندا اے 

8
ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﺎﭘﺎﻧﯽ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺗﺎﮨﮯ ؟
ﺍﯾﮏ ﺧﺪﺍﺋﯽ ﺣﮑﻤﺖ . .
ﺳﻮﺭﺝ ﻃﻠﻮﻉ ﮨﻮﭼﮑﺎﺗﮭﺎ . ﮨﻢ ﺳﺎﺣﻞ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﭘﺮﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ . ﺧﻨﮏ ﮨﻮﺍﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺗﮯ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﮐﺎﺣﺴﯿﻦ ﻣﻨﻈﺮﺧﺎﺻﺎ ﺩﻟﮑﺶ ﺗﮭﺎ . ﺗﺎﺣﺪﻧﮕﺎﮦ ﭘﮭﯿﻼ ﺳﻤﻨﺪﺭﻣﯿﺮﯼ ﺳﻮﭺ ﮐﺎﻣﺤﻮﺭﺑﻦ ﮔﯿﺎ
ﺳﻤﻨﺪﺭﮐﺎﭘﺎﻧﯽ ﮐﮭﺎﺭﺍ ﯾﺎﻧﻤﮑﯿﻦ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﺗﺎﮨﮯ . ﺳﻤﻨﺪﺭﯼ ﻣﺪﻭﺟﺰﺭﮐﮯﭘﯿﭽﮭﮯ ﺁﺧﺮﮐﯿﺎﺣﮑﻤﺖ ﭘﻮﺷﯿﺪﮦ ﮨﮯ ؟
ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻢ ﻋﺎﻡ ﺳﺎﺗﺠﺰﯾﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﺑﺎﺭﺵ ﺍﻭﺭﺑﺮﻑ ﮐﺎﭘﺎﻧﯽ ﺟﺐ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺟﻨﮕﻠﯽ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯﮔﺰﺭﺗﺎﮨﮯ . ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻌﺪﻧﯿﺎﺕ ﮐﯿﻤﯿﺎﺕ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮﻟﯿﺘﺎﮨﮯ . ﺟﻮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺟﮭﯿﻠﻮﮞ ﺩﺭﯾﺎﺅﮞ ﮐﺎﺳﻔﺮﻃﮯﮐﺮﮐﮯﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮔﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﻣﺪﻭﺟﺰﺭ ﮐﮯﺗﺴﻠﺴﻞ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮨﻮﺍﻣﯿﮟ ﺍﮌﺟﺎﺗﺎﮨﮯ . ﺟﺒﮑﮧ ﻧﻤﮑﯿﺎﺕ ﺳﻤﻨﺪﺭﮐﺎﺣﺼﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ . ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ . ﺩﻧﯿﺎﮐﺎﺳﺐ ﺳﮯ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﺗﺮﯾﻦ ﺳﻤﻨﺪﺭﺑﺤﯿﺮﮦ ﻣﺮﺩﺍﺭﮐﮯﻧﺎﻡ ﺳﮯﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﮯ . ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪﮔﺮﯾﭧ ﺳﺎﻟﭧ ﻟﯿﮏ ﻧﺎﻣﯽ ﺟﮭﯿﻞ ﮐﺎﻧﻤﺒﺮﺁﺗﺎﮨﮯ . ﺍﻥ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﮐﺎﭘﺎﻧﯽ ﻋﺎﻡ ﺳﻤﻨﺪﺭﯼ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺩﺱ ﮔﻨﺎﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﮨﮯ .
ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻮﺍﻝ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﺍﺗﻨﮯﺑﮍﮮ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺮﺭﮐﮭﺎﮨﮯ . ﺍﺳﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﯿﺎﺟﺲ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻼﺕ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯﺑﮭﺮﮮ ﺩﻭﭨﺐ ﺩﮬﻮﭖ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﮯ . ﺍﯾﮏ ﭨﺐ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﮐﻠﻮ ﻧﻤﮏ ﮈﺍﻻ . ﺩﻭﺳﺮﮮﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻠﻮﭼﯿﻨﯽ ﮈﺍﻟﯽ . ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺷﺎﻡ ﮐﻮﺩﯾﮑﮭﺎﺗﻮ ﻣﯿﭩﮭﺎﭘﺎﻧﯽ ﺳﺒﺰﯼ ﻣﺎﺋﻞ ﺍﻭﺭﻣﭽﮭﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺁﻣﺎﺟﮕﺎﮦ ﺑﻦ ﭼﮑﺎﺗﮭﺎ . ﺟﺒﮑﮧ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﭘﺎﻧﯽ ﻗﺪﺭﮮﺑﮩﺘﺮﺗﮭﺎ . ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺩﮨﺮﺍﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺑﺎﺭﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮﻣﺴﻠﺴﻞ ﺣﺮﮐﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ . ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎﭨﯿﺴﭧ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺗﻮ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﺎ . ﺟﺒﮑﮧ ﻣﯿﭩﮭﺎﭘﺎﻧﯽ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮﭼﮑﺎﺗﮭﺎ . ﻧﻤﮑﯿﻦ ﭘﺎﻧﯽ ﻓﻠﭩﺮﮐﺮﮐﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻟﯿﺎﮔﯿﺎ . ﺍﺱ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﮯﺑﻌﺪ ﺧﺪﺍﺋﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﻋﻤﻠﯽ ﺑﺨﻮﺑﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﺁﮔﺌﯽ .
ﺍﮔﺮﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﺎﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﭩﮭﺎﮐﺮﺩﯾﺎﺟﺎﮰ . ﻣﺪﻭﺟﺰ ﮐﺎﺳﻠﺴﻠﮧ ﺭﻭﮎ ﺩﯾﺎﺟﺎﮰ ﺗﻮ ﺳﻤﻨﺪﺭﯼ ﭘﺎﻧﯽ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮﮐﺮﺗﻌﻔﻦ ﺯﺩﮦ ﻓﻀﺎﭼﮭﻮﮌﮮ ﮔﺎﺟﺲ ﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮒ ﻣﮩﻠﮏ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﺎﺷﮑﺎﺭﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ . ﻧﻈﺎﻡ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﻌﻄﻞ ﮨﻮﺟﺎﮰ ﮔﯽ . ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﻤﻨﺪﺭﯼ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﺎﻻﺯﻣﯽ ﺟﺰﻭ ﮨﮯ . ﻋﻼﻭﮦ ﺍﺯﯾﮟ ﺳﻤﻨﺪﺭﯼ ﻧﺎﯾﺎﺏ ﺟﮍﯼ ﺑﻮﭨﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﺫﺧﺎﺋﺮﻧﻤﮑﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ ﭘﺮﻭﺭﺵ ﭘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﺳﻮﻧﮯ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺳﻤﻨﺪﺭﯼ ﭘﻮﺩﺍ " ﻣﺮﺟﺎﻥ " ﻧﻤﮑﯿﺎﺗﯽ ﺟﺰﺋﯿﺎﺕ ﭘﺮﭘﺮﻭﺍﻥ ﭼﮍﮬﺘﺎ ﮨﮯ . ﻧﻤﮑﯿﻦ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﻤﻨﺪﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎﻣﯿﮟ ﺭﻭﺡ ﺟﯿﺴﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﺭﺏ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮﺻﺤﯿﺢ ﺳﺎﻟﻢ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯿﻠﮱ ﭼﺎﺭ ﻃﺮﺡ ﮐﺎﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎﮨﮯ
1 ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺑﺨﺎﺭﺍﺕ ﺑﻨﺎﮐﺮﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮐﯿﺎﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ . ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﻮﺳﻂ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻃﻠﺐ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﻧﯿﺰ ﻭﮨﺎﮞ ﺯﻣﯿﻨﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺑﯿﻠﻨﺲ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﺍﺑﺮﮐﯿﺎﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
2 ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺍﺅﮞ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻧﯿﭽﻠﯽ ﺳﻄﺢ ﮐﻮ ﺍﻭﭘﺮﻻﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ . ﺟﺲ ﺳﮯ ﺧﻼﺋﯽ ﺑﮭﻨﻮﺭ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﺟﺴﮯ ﭘﺮﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﮱ ﺍﻭﭘﺮﯼ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ .
3 ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﮨﯿﮟ . ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻃﺮﻑ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﺎﮐﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﺼﮧ ﻧﮩﺮﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺑﮩﺘﮧ ﮨﻮﺍ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﮕﮧ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ . ﺍﺳﮯ ﺑﺤﺮﯼ " ﺭﻭ " ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ .
4 ﮐﺸﺶ ﺛﻘﻞ ﺍﻭﺭ ﮐﺸﺶ ﻗﻤﺮﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮﻣﺴﻠﺴﻞ ﺣﺮﮐﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ . ﺟﺲ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺗﺎﺯﮔﯽ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ .
ﺑﮯﺷﮏ ﺍﻟﻠﮧ ﺑﮩﺘﺮﺣﮑﻤﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ.
9
شاعری / حبیب جالب
« Last post by Administrator on July 18, 2020, 11:57:16 AM »
وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہوگا
مگر زمانے کی باتوں سے ڈر گیا ہوگا
اسے تھا شوق بہت مجھ کو اچھا رکھنے کا
یہ شوق اوروں کو شاید برا لگا ہوگا
کبھی نہ حد ادب سے بڑھے تھے دیدہ و دل
وہ مجھ سے کس لیے کسی بات پر خفا ہوگا
مجھے گمان ہے یہ بھی یقین کی حد تک
کسی سے بھی نہ وہ میری طرح ملا ہوگا
کبھی کبھی تو ستاروں کی چھاؤں میں وہ بھی
مرے خیال میں کچھ دیر جاگتا ہوگا
وہ اس کا سادہ و معصوم والہانہ پن
کسی بھی جگ میں کوئی دیوتا بھی کیا ہوگا
نہیں وہ آیا تو جالبؔ گلہ نہ کر اس کا
نہ جانے کیا اسے درپیش مسئلہ ہوگا
حبیب جالب
10
شاعری / مظفر وارثی
« Last post by Administrator on July 18, 2020, 11:35:25 AM »
یہی ہے  زندگی کچھ  خواب ، چند  اُمیدیں
انہی کھلونوں سےتُم بھی بہل سکو تو چلو
(مظفر وارثی)
Pages: [1] 2 3